تسی سمجھ تے گئے او۔۔؟؟

  ہفتہ‬‮ 24 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  13:03

پرائم منسٹر صاحب بہت اچھے موڈ میں تھے‘ان کا دل چاہ رہا تھا کہ آج عام لوگوں کی طرح خریداری کی جائے‘پرائم منسٹر نے بھیس بدلا ‘گاڑی نکالی اور ایک بیکری والے کے پاس جا کر گاڑی روک دی‘ بیکری والے سے کہا ایک کلو جلیبیاں دینا‘ دکاندار پیک کرکے دینے لگا تو پرائم منسٹر کا ارادہ بدل گیا‘انہوں نے کہا کہ جلیبیاں

رہنے دو تم ایک کلو پکوڑے دے دو‘ دکاندار پیک کرنے لگا تو پرائم منسٹر کا ارادہ ایک بار پھر تبدیل ہو گیا اور انہوں نے کہا کہ پکوڑے رہنے دو تم ایک کلو برفی دے دو‘ دکاندار نے پیک کر کے ایک کلو برفی دی اور پیسے طلب کئے تو پرائم منسٹر نے جواب دیا‘ پیسے کس بات کے؟ دکاندار نے جواب دیا

برفی کے! پرائم منسٹر نے کہا یہ تو میں نے پکوڑوں کے بدلے لی ہے‘ دکاندار نے کہا اچھا پھر پکوڑوں کے پیسے دے دیں‘پرائم منسٹر نے کہا وہ تو میں نے جلیبی کے بدلے لئے تھے‘ دکاندار نے کہا اچھا پھر جلیبیوں کے پیسے دے دیں‘ پرائم منسٹر نے کہا یار جلیبیاں تو میں نے واپس کر دیں تھیں تو پیسے کس بات کے؟؟سمجھ تو آپ گئے ہوں گے۔اگر نہیں سمجھے تو پھر پوگو کھیلیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎